DOWNLOAD OUR APP
IndiaOnline playstore
08:24 AM | Thu, 28 Jul 2016

Download Our Mobile App

Download Font

بلاول زرداری کی کور کمانڈر کراچی سے ملاقات

380 Days ago
| by

288858_17266144

کراچی ،13جولائی ( ایجنسی )کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاوس میں اتوار کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کور کمانڈر کراچی جنرل نوید مختار اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز جنرل بلال اکبر سے ملاقات ہوئی ہے۔ بلاول زرداری کا پاکستان فوج کی صوبائی قیادت سے پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔صوبائی حکومت نے اس کو مخص اتفاق قرار دیا ہے جبکہ فوج کے تعلقات عامہ شعبے اور رینجرز کے ترجمان کی جانب سے کوئی اعلامیہ سامنے نہیں آیا۔صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعلیٰ ہاو¿س آئے تھے جہاں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو پہلے ہی موجود تھے، اور یہ ملاقات پہلے سے مجوزہ نہیں تھی۔شرجیل انعام میمن کے مطابق اس مختصر ملاقات میں بلاول بھٹو نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کارروائیوں پر پاکستان فوج کو خراج تحسین پیش کیا اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کی تعریف کی۔صوبائی وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ بلاول بھٹو نے صوبائی فوجی قیادت کو آگاہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز جنرل بلال اکبر کے بیانات پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے چند ماہ قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال غلطیوں اور ناکامیوں کے باعث خراب ہوئی جن میں انتظامی ناکامی اور ناکارہ سیاست شامل ہے۔صوبائی ایپکس کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد رینجرز کے ترجمان نے ایک اعلامیے میں کہا تھا کہ ڈی جی رینجرز نے ایپکس کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ کراچی میں سالانہ 230 بلین روپے سے زائد رقم غیر قانونی طریقوں سے وصول کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ شہری انفرادی طور پر اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ رقم، زمینوں پر قبضوں، بندرگاہوں سے بھتوں، ایرانی تیل کی سمگلنگ سمیت دیگر ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے، جس میں سیاسی و مذہبی شخصیات ملوث ہیں اور اس کا حصہ ایک اہم سیاسی شخصیت کو پہنچایا جاتا ہے۔پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ان بیانات پر ردعمل کا اظہار کیا تھا۔              اسلام آباد میں ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ہے کہ اگر ا±نھیں دیوار سے لگانے اور ان کی کردار کشی کرنے کی روش ترک نہ کی گئی تو وہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک جرنیلوں کے بارے میں وہ کچھ بتائیں گے کہ وہ (فوجی جرنیل) وضاحتیں دیتے پھریں گے۔آصف علی زرداری کے اس بیان کے بعد ان کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے دفاع کے لیے شیری رحمان اور قمر زمان قائرہ کو سامنے آنے پڑا۔ انھوں نے کہا تھا کہ زرداری ان ڈکٹیٹروں اور جرنیلوں کی بات کر رہے ہیں جنھوں نے خود آمریت کے دور چلائے ہیں اور اب سیاسی منظرِ عام پر آنا چاہتے ہیں۔پاکستان اور خصوصاً سندھ میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ جانے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ فریال ٹالپور کے ہمراہ دبئی چلے گئے، جبکہ ان کے پیچھے بلاول بھٹو نے نشست سنبھال لی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے فوج کے صوبائی سربراہان کی ملاقات کو محض اتفاق قرار دینے کے باوجود اس ملاقات کو غیر معمولی اور غیر روایتی قرار نہیں دیا جاسکتا۔   ()

Viewed 399 times
  • SHARE THIS
  • TWEET THIS
  • SHARE THIS
  • E-mail

Our Media Partners

app banner

REVOLUTIONARY ONE-STOP ALL-IN-1 MARKETING & BUSINESS SOLUTIONS

  • Digital Marketing
  • Website Designing
  • SMS Marketing
  • Catalogue Designing & Distribution
  • Branding
  • Offers Promotions
  • Manpower Hiring
  • Dealers
    Retail Shops
    Online Sellers

  • Distributors
    Wholesalers
    Manufacturers

  • Hotels
    Restaurants
    Entertainment

  • Doctors
    Chemists
    Hospitals

  • Agencies
    Brokers
    Consultants

  • Coaching Centres
    Hobby Classes
    Institutes

  • All types of
    Small & Medium
    Businesses

  • All types of
    Service
    Providers

FIND OUT MORE