DOWNLOAD OUR APP
IndiaOnline playstore
03:20 PM | Fri, 01 Jul 2016

Download Our Mobile App

Download Font

’پٹیل برادری اور مودی کا ہنی مون ختم‘

281 Days ago

150923224815_modi_us

دكشیش پٹیل ان ہزاروں لوگوں میں سے تھے جنھوں نے گذشتہ سال نیویارک میں وزیر اعظم نریندر مودی کے استقبال کے لیے نعرے لگائے تھے۔ وہ مودی کی محبت میں کینیڈا بھی پہنچ گئے تھے۔وہی دكشیش پٹیل اس جمعے کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر مودی کے خلاف نعرے لگائیں گے۔ناراض پٹیل برادری کی ایسی ہی ایک ریلی اتوار کو کیلیفورنیا میں بھی ہو رہی ہے جہاں بھارتی کمیونٹی گذشتہ سال کی طرح ہی اس بار بھی ان کا شاندار استقبال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔کاروباری پیشے سے تعلق رکھنے والے دكشیش پٹیل کہتے ہیں ’مودی کے ساتھ ہمارا ہنی مون اب ختم ہو گیا۔‘ان کی ناراضگی اس بات پر ہے کہ پٹیل کمیونٹی کی زبردست حمایت کے باوجود مودی نے اس برادری کو ریزرویشن والی فہرست میں شامل کروانے میں کوئی مدد نہیں کی ہے۔ریاست گجرات میں پٹیل برادری کا کافی دبدبہ ہے لیکن دكشیش پٹیل کا کہنا ہے کہ ’میرے والد کسان تھے اور کافی محنت کر کے انہوں نے مجھے انجینیئرنگ کی تعلیم دلوائي لیکن مجھے بھارت کو اس لیے چھوڑنا پڑا کیونکہ وہاں میرے لیے کوئی کام نہیں تھا۔‘امریکہ میں بسے پٹیلو ں کو غصہ ہے کہ گجرات اور مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود ان کے خلاف پولیس نے ’پرامن مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ سے کام لیا‘ اور پولیس کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی بھی نہیں ہوئی ہے۔نیو جرسی کے ایڈیسن علاقے میں بڑی تعداد میں گجراتی نژاد لوگ رہتے ہیں۔گذشتہ برس جب مودی نیویارک آئے تھے تو نیو جرسی میں ہندو فیسٹیول ’ نوراتری‘ کی دھوم تھی لیکن دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں اور پوسٹروں کو مودی کی بڑی بڑی تصاویر سے مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا۔ دکانوں میں گربا کے روایتی لہنگا چنّي کو مودی کے سٹائل کے رنگ برنگے کرتوں اور جیكٹوں سے ٹکّر تھی۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہہ رہے تھے کہ لگتا ہے جیسے بھگوان رام بن باس ختم کر کے واپس آ رہے ہیں۔تیجس پٹیل کہتے ہیں کہ انھیں لگ رہا ہے جیسے ان کے ساتھ فریب ہوا ہو۔ وہ مودی کا مقابلہ اب راون سے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ راون سادھو کے بھیس میں آیا اور سیتا کو لے گيا۔ امریکہ کے ایک ہزار سب سے زیادہ مقبول خاندانی نامو میں پٹیل 172 ویں نمبر پر آتے ہیں۔ایشیائی امریکن ہوٹلز مالکان کی ایسوسی ایشن کے مطابق امریکہ کے 40 فیصد ہوٹل مالک بھارتی نژاد ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد پٹیلوں کی ہے۔ اس شعبے کی ایسوسی ایشن کے صدر، نائب صدر، ٹریذرر اور سیكریٹری تمام کے تمام پٹیل ہیں۔ کوئی واپس بھارت جا کر سرکاری ملازمت کرے گا اس کا امکان بہت کم ہے۔ تو پھر بھارت میں چل رہی ذات پات کی بحث کو امریکی سرزمین پر لانا کہاں تک صحیح ہے؟

()

Viewed 195 times
  • SHARE THIS
  • TWEET THIS
  • SHARE THIS
  • E-mail

Our Media Partners

app banner

Download India's No.1 FREE All-in-1 App

Daily News, Weather Updates, Local City Search, All India Travel Guide, Games, Jokes & lots more - All-in-1