اس دہائی کا آخری سورج گرہن ملک کے کچھ حصوں میں

news

کئی دیگر ملکوں کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی اِس وقت جزوی سورج گرہن دیکھا جارہا ہے۔ یہ حلقہ نما سورج گرہن اِس دہائی کا آخری گرہن ہے اور یہ اُس وقت ہوتا ہے کہ جب چاند سورج کے مرکز کو ڈھک لیتا ہے۔ اس طرح چاند کے اطراف سورج کا چمکتا ہوا حلقہ دکھائی دیتا ہے۔
دلّی کے نہرو Planetarium میں Programming منیجر پریرنا چندر نے بتایا کہ سورج گرہن کے سیدھے مشاہدے کیلئے پورے ملک کے Planetariums میں انتظامات کئے گئے ہیں۔
اس کا سمے جو ہے وہ سات بج کر 56 منٹ ہے اور دس بج کر 57 منٹ لگ بھگ گیارہ بجے تک ہم یہ گرہن جو ہے وہ دیکھ سکتے ہیں، بھارت کے علاوہ یہ گرہن سری لنکا، فلپینس، آسٹریلیا میں دیکھا جائے گا۔ بھارت میں کیونکہ سدرن بیلٹ میں جو ہے اس کا پربھائو زیادہ رہے گا، وہاں سے ہمیں پوری طرح سے ایک لپس دکھائی دے گا تو کوئم بٹور، تمل ناڈو اور کنور میں یہ سدرن بیلٹ میں یہ پوری طرح سے ٹوٹل ایک لپس دکھائی دے گا۔ دلّی سے ہم اس کو پارسلی دیکھ پائیں گے۔
اِدھر سورج گرہن کے موقع پر پورے ملک میں دریاﺅں اور آبی ذخیروں میں عقیدتمند مقدس اشنان کر رہے ہیں۔
امید ہے کہ کروکشیتر میں 15 لاکھ سے زیادہ افراد برہما سروور میں مقدس ڈُبکی لگائیں گے۔
اوڈیشہ میں ریاستی سرکار نے سورج گرہن کی وجہ سے اسکولوں اور کالجوں میں آج چھٹی کا اعلان کیا ہے۔
(AIR NEWS)

63 Days ago