A part of Indiaonline network empowering local businesses

حکومت نے پردھان منتری متسیا کسان سمردھی یوجنا کی ذیلی اسکیم کو منظوری دی ہے

News

مرکزی کابینہ نے ماہی پروری کے شعبے کیلئے پردھان منتری متسیا سمردھی کے تحت مرکزی سیکٹر کی ایک ذیلی اسکیم ’پردھان منتری متسیا کسان سمردھی سہ یوجنا‘ کو منظوری دی ہے۔ کَل نئی دلّی میں کابینہ کی میٹنگ کے بعد صحافیوں کو جانکاری فراہم کرتے ہوئے مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے کہاکہ اگلے چار برس کے دوران اسکیم کیلئے کُل 6 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تین ہزار کروڑ روپے سرکاری مالیات سے آئیں گے، جن میں عالمی بینک اور AFD بیرونی فائنانسنگ شامل ہیں، جبکہ باقی 50 فیصد پرائیویٹ سیکٹر سے مستفدین کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔ وزیرموصوف نے کہاکہ اِس اسکیم سے ماہی پروری کے شعبے کو بتدریج رسمی شکل دینے اور ادارہ جاتی قرض تک رسائی بڑھانے میں مدد ملے گی۔
جناب ٹھاکر نے کہاکہ یہ اقدام چھ لاکھ 40 ہزار بہت چھوٹی صنعتوں اور ماہی پروری سے متعلق امدادباہمی کے پانچ ہزار 500 اداروں کو مدد فراہم کرے گا۔ اِس سے اِن صنعتوں اور اداروں کو ادارہ جاتی قرض تک رسائی فراہم ہوگی۔
سرکاری بیان کے مطابق یہ ذیلی اسکیم 40 لاکھ چھوٹی اور بہت چھوٹی صنعتوں کو کام کی بنیاد پر شناخت فراہم کرنے کیلئے ایک قومی فشیریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم تشکیل دینے میں مدد فراہم کرے گی۔ اِس اسکیم کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں مالی برس 2023-24 سے مالی برس 2026-27 تک چار سال کیلئے لاگو کیا جائے گا۔
مرکزی کابینہ نے ماہی پروری سے متعلق بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ FIDF کو مزید تین سال کیلئے 2025-26 تک بڑھانے کی بھی منظوری دی ہے۔
حکومت نے 7522 اعشاریہ چار آٹھ کروڑ روپے کے فنڈ سائز اور 939 اعشاریہ چار آٹھ کروڑ روپے کے بجٹ تعاون کی بھی منظوری دی ہے۔ ماہی پروری کے شعبے کیلئے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے 2028-19 کے دوران 7522 اعشاریہ چار آٹھ کروڑ روپے کے کُل فنڈ کے ساتھ ماہی پروری اور ایکوا کلچر سے متعلق بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ FIDF قائم کیا تھا۔ اسکیم کی توسیع کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب ٹھاکر نے کہاکہ اِس سے مالی وسائل کا مزید فائدہ اٹھایا جائے گا، نیز ماہی پروری سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں سے مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
ایک اور اہم معاملے میں کابینہ نے اسپیکٹرم کی نیلامی کیلئے ٹیلی مواصلات کے محکمے کی ایک تجویز کو بھی منظوری دی، جس کے ذریعے کامیابی بولی دہندگان کو ٹیلی مواصلات خدمات فراہم کرنے کیلئے اسپیکٹرم تفویض کیا جائے گا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اضافی اسپیکٹرم ٹیلی مواصلات خدمات کے معیار اور صارفین کیلئے کوریج کو بہتر بنائے گا۔ اِس میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپیکٹرم کیلئے نیلامی 800 میگا ہرٹز، 900 میگا ہرٹز، 1800 میگا ہرٹز، 2100 میگا ہرٹز، 2300 میگا ہرٹز، 3300 میگا ہرٹز اور 26گیگا ہرٹز فریکوئنسی بینڈز میں کی جائے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپیکٹرم کو 20 سال کی مدت کیلئے پیش کیا جائے گا جس کی قیمت 96 ہزار 317 اعشاریہ چھ پانچ کروڑ روپے ہے۔
کابینہ نے ٹرین کی حفاظت کیلئے خودکار نظام ATP سسٹم اور آپریشنز کیلئے 700 میگا ہرٹز بینڈ میں NCRTC جیسے ریل پر مبنی شہری علاقائی ٹرانزٹ سسٹم کی اسپیکٹرم کی ضروریات کیلئے ایک تجویز کو بھی منظوری دی۔ (AIR NEWS)

20 Days ago