आपकी जीत में ही हमारी जीत है
Promote your Business

شمال مشرقی دلی میں تشدد کے سلسلے میں ایک سو سے زیادہ افرادگرفتار، متاثرہ علاقوں میں کافی فورس تعینات

News

وزیراعظم نریندر مودی نے کل تشدد سے متاثرہ شمال مشرقی دلی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ جناب مودی نے سلسلہ وار ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور دیگر ایجنسیاں امن اور معمولات کو یقینی بنانے کے لئے بنیادی سطح پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سماجی اخلاقیات کے لئے امن اور ہم آہنگی مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے ہر ایک سے مکمل امن اور بھائی چارہ برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کل متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے موج پور علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور مقامی لوگوں سے گفتگو کی۔ دورے کے بعد جناب ڈوبھال نے وزیر داخلہ امت شاہ کو علاقے کی صورتحال اور معمول کی زندگی بحال کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات سے مطلع کیا۔ دلی پولیس کمشنر امولیہ پٹنائک نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اعتماد سازی کیلئے بہت سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
قومی دارالحکومت میں میڈیا کو تفصیل بتاتے ہوئے دلی پولیس کے ترجمان ایم ایس رندھاوا نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں کافی فورس تعینات کی گئی ہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے اب تک 18ایف آئی آر درج کی ہیں اور تشدد کے سلسلے میں 106 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جناب رندھاوا نے کہا کہ دلی پولیس نے دو ہیلپ لائن نمبر جاری کئے ہیں جہاں لوگو کسی مدد کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں یا پولیس کو کوئی بھی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ یہ نمبر ہیں :صفر ایک ایک،دو دو،آٹھ دو، نو تین،تین چار اور دوسرا نمبر ہے:صفر ایک ایک، دو دو، آٹھ دو، نو تین، تین پانچ دلی پولیس کے عہدیدار نے کہا ہے کہ تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔ حفاظتی دستوں نے بابرپور، جوہری پور اور موج پور میں فلیگ مارچ کیا۔
وزارت داخلہ نے ایک ایڈوائزری میں کہا ہے کہ بھیڑ کے ذریعے تشدد اور پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنا ایک وحشیانہ اور سنگین جرم ہے۔ قانون کے تحت اس کے لئے سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ (AIR NEWS)

31 Days ago

Download Our Free App